Blog Poetry Urdu

تیرا یوں الودع کہنا

تیرا یوں الودع کہنا

بہت اچھا لگا مجھ کو

تیرا یوں الودع کہنا

مگر کچھ پیار سے کہتے

مجھے بھی یار تو کہتے

پرایا تو نہیں تھا میں

تمہارے ساتھ بیتاے تھے

کیئ لمحے تنہائ کے

بہت اچھا لگا مجھ کو۔۔۔

مگر اے جانِ من! سوچو

یہاں طوفان آئیں جو

یا آندھیوں کے طوفانوں میں

میں کس کے پاس جاونگا؟

کسے میں درد سُناوُنگا؟

کس کی خاطر میں نغمے گُنگُناوُنگا؟

ذرا تو یہ بھی کہہ دیتے

بہت اچھا لگا مجھ کو

تمہارا روٹھ سا جانا

ذرا سی ٹھیس سے بھی

شیشہِ دل ٹوٹ سا جانا

تمہیں کچھ بھی نہیں لگتا؟

کیا میں اک دل نہیں رکھتا؟

کیا میں خواہش نہیں رکھتا؟

کیا بستی میں، میں تجھ سا کوئی بھی مہوش نہیں رکھتا؟

کیا میں شرر نہیں، خود میں کوئی آتش نہیں رکھتا؟

کیا تٌو اب دل میں مجھ سے کوئی بھی خلش نہیں رکھتا؟

یہی تو پوچھنا تھا کہ

تم نے تو الودع کہہ کے

مجھے خاموش کر دیا

ادائےِ بِے رُخی سے جانِ من

بیہوش کر دیا

اور جب میں ہوش میں آیا

تو تُو تو جا چکا تھا دوست

بہت اچھا لگا مجھ کو

تیرا یوں الودع کہنا۔۔

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply