Blog

خواب و خیال

کبھی کبھار خواب و خیال سے آگے بھی جانا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ زندگی فضول ڈراموں میں گزار دیتے ھیں۔ خوش نصیب ھیں وہ لوگ جو اپنے دل کی دھڑکن کی تھاپ پہ تھرکتے ہیں۔ زندگی کے غبارے سے ہوا نکلتے دیر نہیں لگتی۔ مگر کچھ ہی غبارے ہوتے ہیں جو سالوں کی مسافت چند لمحوں میں طے کرتے ہیں۔

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply