Blog

ریاستِ مدینہ انقلابی ریاست تھی فلاحی نہیں

ایک عرصے سے ان لاحاصل ابحاث میں قومی ائیر ٹائم کو برباد ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی خواہش کا احترام بجا مگر اِس بانسری کا وقت بے وقت تکرار دل کو طمانیت و سرور کا سامان تو کبھی بھی نہیں رہا۔ سوچتا ہوں اس لاحاصل بحث پر اپنی رائے پیش کروں۔ ایک طالب علمانہ رائے کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مگر الزام تو کسی پر بھی لگ سکتا ہے۔

سب سے پہلے تو چند گزارشات موضوع کے حوالے سے۔ ریاست مدینتہ النبیﷺ انقلاب اور فلاح جب تک ان اسرار سے پردہ نہیں اُٹھتا تب تک کوئی بھی اسلام کا لبادہ پہن کر یزیدیت کا پرچار کوئی کر سکتا ہے۔ اور یہ ماضی، حال اور مستقبل کے لیے ایک راہِ عمل بھی ہو سکتا ہے۔ ایک عالمی اسلامی اور انسانی حُکومت کا معیار دیانت و فراست ہے ریاست و خیانت نہیں۔

ریاست جسے افلاطون سے لے کر اقبال اور اقبال سے لے کر ہر صاحبِ فہم و فراست نے اپنے زاویہ نظر سے دیکھا ہے۔

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔