Blog Literature Urdu

آبِ گُم

آبِ گُم

ایک ادا دل کو آ بھی لیتی ہے

دُور منزل کو پا بھی لیتی ہے

میرے الفاظ زندگی کی طرح

مثلِ شمع ہیں روشنی کی طرح

تجھے جاموں پہ جام ملتے ہیں

مجھے جاموں کے دام ملتے ہیں

پیمانہ توڑ دیا ہے میں نے

میخانہ چھوڑ دیا ہے میں نے

خود فراموش بن چکا ہوں میں

نشہ وہ نوش کر چکا ہوں میں

سرِ میدان کہہ چکا ہوں میں

پسِ زندان کہہ رہا ہوں میں

ایک محبت تھی چھوڑ دی میں نے

تجھ سے قربت تھی توڑ دی میں نے

اس سے بہتر ہے خودکشی کر لوں

کچھ تو خاموش میکشی کرلوں

وعدے کرنا اور پھر مُکر جانا

رقص کرنا اور پھر بکھر جانا

آج کل آئینے بھی جھوٹے ہیں

سچ ہے کہ وہ بھی مجھ سے روٹھے ہیں

غم فسانہ نہیں، حقیقت ہے

تجھ سے کہنا نہیں، حقیقت ہے

کچھ بھی ہو، پھر بھی معطؔر ہوں میں

تیری قدموں کا رہ گزر ہوں میں

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started