Urdu,  ادب,  شاعری

اب تو تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں

اب تو تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں

دل کو اسیر، نہیں کرنا پریشاں جاناں

پہلے تم پیار کرو، پھر مجھے آزار کرو

اس کو دینا ہے آخر کس چیز کا عنواں جاناں

دیکھو تم یار کرو پھر دلِ داغدار کرو

ایسے چلتا ہے کیا عشاق کا کارواں جاناں

تم زمیں دوز رہو دل میں بھی پرسوز رہو

جانے کیسے ہو تیرے پیار کا تاواں جاناں

حسن اک جنس سہی، عشق خریدار نہیں

زندگی خود بھی تو اسکی نہیں دکاں جاناں

تم کسی اور سے مِل، مجھ کو کسی اور کا کر

اب نہیں درد کا پھر کوئی بھی امکاں جاناں

تم نے یہ سچ ہی کہا، مجھ سے ہے نفرت اب تمہیں

جانے کب تھا میں تیرے زلف سے لرزاں جاناں

تم کہو، میں تو تیرے زہر کا عادی ہوں ابھی

جی نہیں میں تو تیرے پیار کا دیواں جاناں

لوٹ مجھکو، معطر سے کہو جانے بھی دو

اب تو تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں

Leave a Reply