Literature,  Urdu

آہ! مسلسل فِراق آجاؤ

میرے دل کے سرور آجاؤ

میرے آنکھوں کے نور آجاؤ

تجھ سے ملنا خطا ہے میری کیا

معاف کر میرا قصور آجاؤ

میری مجبوریاں تو دیکھو جان

میں ہوں کتنا مجبور آجاؤ

ظلمتِ شب کے پاس رہتا ہوں

تم سراپا ہو نور آجاؤ

روٹھتے کیوں ہو صنم مجھ سے تم

چلو میرا قصور آجاؤ

بھری دنیا میں ہوں تنہا جانم

تو ہے میرا حضور آجاؤ

وادیوں میں ہوں، پہاڑوں میں ہوں

تم ہو جلوۂِ طور آجاؤ

میں معطر سے مل کے آیا ہوں

اس سے کہنا ضرور آجاؤ

Leave a Reply