آہ! مسلسل فِراق آجاؤ

میرے دل کے سرور آجاؤ

میرے آنکھوں کے نور آجاؤ

تجھ سے ملنا خطا ہے میری کیا

معاف کر میرا قصور آجاؤ

میری مجبوریاں تو دیکھو جان

میں ہوں کتنا مجبور آجاؤ

ظلمتِ شب کے پاس رہتا ہوں

تم سراپا ہو نور آجاؤ

روٹھتے کیوں ہو صنم مجھ سے تم

چلو میرا قصور آجاؤ

بھری دنیا میں ہوں تنہا جانم

تو ہے میرا حضور آجاؤ

وادیوں میں ہوں، پہاڑوں میں ہوں

تم ہو جلوۂِ طور آجاؤ

میں معطر سے مل کے آیا ہوں

اس سے کہنا ضرور آجاؤ

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply