ادب,  اُردو,  بلاگ,  شاعری

ایک ہی دن میں کیا عشق کا سودا میں نے

ایک ہی دن میں کیا عشق کا سودا میں نے

پائی اپنے ہی بغاوت کی یہ جزا میں نے

لوگ اپنے بھی لگے اور پرائے بھی لگے

دیکھی جب اپنی حقیقت کی یہ خطا میں نے

آج بھی ڈوبتی سانسوں نے شکایت کی تھی

کی اپنے پیار کے قیمت کی نہ پرواہ میں نے

چلو! ایک بات سنو، پھر سے بھول جاؤ مجھے

کیا تھا خود ہی تو اس پیار کا سودا میں نے

میں معطر سے ملا ہوں مگر اکثر

جب بھی دیکھا ہے اسے، محوئے تماشا میں نے

مخزنِ درد

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply