Literature,  Urdu

اِک پاگل سی لڑکی

ایک لڑکی تھی جو پاگل سی لگا کرتی تھی

ہم جو کہتے اُسے پاگل، تو بھڑک اُٹھتی تھی

کہتی جھٹ سے کہ میں پاگل نہیں سن لو تم سب

اور ہم مِل کے بس مزاق اُڑایا کرتے

اک دن پوچھا جو میں نے کہ وہ اسرار ہیں کیا

جن کا مدفن ہے تیرا چھوٹا سا نازک سا دل

اُس نے کچھ سوچ کر ہم سے کہا:پاگل ہوں میں؟

ہم نے جھٹ سے کہا: اللہ نا کرے ایسا

اُس نے پوچھا کہ پھر پاگل کیوں سمجھتے ہو مجھے؟

عرض کیا آپ کا رویہ ہی ہے کچھ تو ایسا

باتوں باتوں میں کئی راز کُھلے مجھ پہ کہ

زیبِ قرطاس کریں ڈرتا ہے اپنا یہ قلم

پھر بھی کچھ لکھنا ہے، حالات ہی کچھ ایسے ہیں

دل تو پاگل ہے اور جزبات بھی کچھ ایسے ہیں

ہم نے پوچھا کہ کہیں علم و ہنر رکھتی ہیں آپ

کہا اِحساسِ سحر رکھتی ہوں میں

جب یہ پوچھا کہ شاعری کا شغف بھی ہے تمہیں؟

کہا فطرت کے اِشارات سمجھتی ہوں میں

ہم نے پوچھا کہ کہیں ہیں کچھ فسانے آپکے؟

ہاں کہا پر اُنکے اسماء نہ بتائے ہم کو

ہم نے پوچھا: کہیں ناول بھی لکھا کرتی ہیں

کہا بس اک ہی ناول ہے متاعِ حیات

جس میں کوئی ہے پیام نہ نظریہِ حیات

باتیں ہوتی ہی رہیں اور راز کُھلتے رہے

شک تھے جو دل میں وہ داغوں کی طرح دُھولتے گئے

آخرش گزری وہ شب سحر نمودار ہوئی

شبِ وصال کو بس ہجر ہی تلوار ہوئی

لوگ تو لوگ ہیں، کیسے وہ کہاں سے آئیں

ہمیں معلوم ہے کیا لوگ جہاں سے آئے

مادرِ علمی گئے ہم تو یہ معلوم ہوا

وہی لڑکی اپنی آنکھوں پہ لگائے عینک

بے خبر بیٹھی ہے حالات سے بے پرواہ

ناگہانی سے اک اور لڑکی جب نمودار ہوئی

آیا طوفان وہ، جیسے کہ ہو طوفانِ سموم

جیسے بہار میں آئے کوئی خزانِ سموم

ہم نے طوفان کے آثار تو دیکھے تھے قبل

پَر کچھ لمحوں کے لیے ساکت و خاموش رہے

ویسے بیزار سے ماحول میں ہم نے بھی آخر

جلوۂِ فتنہ اور جدال سے پرھیز کیا

بعد میں راز یہ معلوم ہوا تھا ہم کو

بات تھی ساری ہوس کی جسے دے کر رنگِ حُب

یاروں نے مسلک و مزہب کا اُڑایا تھا مزاق

مرد آذاد ہے چاہے کرے کوئی فعلِ بد

زن تو محکوم ہے، زنجیر ہے دین و مزہب؟

خوب کہی حضرتِ واعظ نے بہت خوب کہی

ہائے قُربان کہ فرمانِ قیصری ہے یہی

مرد ہر فعل میں اذاد زن محکوم و غلام

ہے یہ پیام میرا درد و آگہی کے لیے

سُراغ ڈھونڈتے ہیں لوگ زندگی کے لیے

اندھیری رات ہے، روش کہیں چراغ نہیں

میری نگاہ ترستی ہے روشنی کے لیے

نہیں جہاں میں محبت ہوس پرستوں میں

فقط تلاش ہے اجسامِ بازاری کے لیے

خُدا کرے کہ مِلے تجھکو خُلوصِ انساں

تڑپ رہا ہے ہر انسان دوستی کے لیے

شراب پھینک دے، جاموں کو توڑ دے ساقی

نہیں شراب کہیں ساغرِ ہستی کے لیے

نہیں ہے جُراتِ علم و عمل تو ثابت کر

تیرا عنوان ہے کیا اور شاعری کے لیے

سراپا خوشبو ہی خوشبو ہے تن کے جوہر میں

تیری نگاہ کیوں نہیں ساحل و کشتی کے لیے

حیات تیری مسلسل ہے گردشِ ایام

بتیں بناؤگے کیا پھر سے کافری کے لیے

کہیں جبریل ہے جو خاک میں اثر رکھ دے

بتانِ وہم و گماں میں ہر سامری کے لیے

کلیم آج بھی بیتاب ہے زمانے میں

کسی فرعون کے دریا میں غرقابی کے لیے

دیا تقدیر نے تجھکو شعورِ شُعلہ نُوا

اِسی کو تیز کر تو محفلِ ہستی کے لیے

اپنے عمل میں لا تو بے خوفی و بے باکئِ من

یہی دستورِ زمن ہے ہر اک خودی کے لیے۔۔۔

اُس پاگل سی لڑکی کو

دے کر پیام ہم نے

پوچھا جو حقیقت کا

بیزار شرافت کا

اِتنا ہی کہا ہم سے۔۔۔

تنہائی ہی ڈستی ہے

ناگن کی طرح پھر سے

کرتی ہے ثناخوانی

ہراک کی زبانی

لفظوں کی یہ روانی

مُفتِ نظر ہے جانی

اِتنا ہی کہیں گے ہم

اُس پاگل سی لڑکی سے

جو پاگل نہیں شاید

تلاشِ حقیقت کر

پھر سودائے جرأت کر

ڈر نہ کہ یہ زمانہ

بے جرأتِ رندانہ

سراسر غُلامانہ

ہر اک کو تازیانہ

تلاشِ صداقت کر

لفظوں سے محبت کر

جزبوں کی کرامت کر

دردوں کا گلہ مت کر

یہی تو زندگی ہے

اِس میں ہی روشنی ہے

اِس میں ہی تازگی ہے

اِس میں ہی روحِ دیں ہے

خُلوص کا جام پِلا دے ساقی

جہاں ہے منتظر تیری وفا کا

صدف ہے جسمِ انساں، روح گوہر

تمنا مجھکو ہے تیری نگاہ کا

جہاں خالی ہے تو معمار اِس کا

جہاں ہے منتظر تیری نِگاہ کا

یہاں کے زندگئِ مومن میں مضمر

صفاتِ کبریائی، عشقِ خُدا کا

یہی تقدیر کا رازِ نہاں ہے

عیاں ہر ذرےمیں نور لاالہ کا

نہ ہو خالق کے عدل و احساں سے غافل

رہو ہر وقت میاں بیم و رجا کا

غزل کا جام تنگ ہے قرۃالعین

یہ شاعرخوشبو ہے اہلِ وفا کا۔۔۔

Leave a Reply