Literature,  Urdu

اِنقلاب

ناخُدا ظُلم کا پیکر بھی تو ہو سکتا ہے

دوست میرا ایک ستمگر بھی تُو ہو سکتا ہے

جان لینے کی ہوس ہے جو میرے قاتِل کو

غریبِ شہر اب رہبر بھی تُو ہو سکتا ہے

کل تھلک سہتا رہا تیرے ظُلم کے جو داغ

ہاتھ میں اُسکے آج خنجر بھی تو ہو سکتا ہے

مانگتے پھرتےتھے جو لوگ قطرہ قطرہ شراب

اب اُنکے ہاتھ میں ساغر بھی تو ہو سکتا ہے

کس کے ہاتھوں لُٹا غریبِ دہر

لُٹا یہ شخص قلندر بھی تو ہو سکتا ہے

جن کی دامن میں کُچھ نہیں ہوتا

ایسا اک شخص سکؔندر بھی تو ہو سکتا ہے

شمع ہوتی ہے فنا رو رو کے

موم اشکوں کا سمندر بھی تو ہو سکتا ہے

سازشوں سے بھری اِس دنیا میں

کسی صحرا میں ابوؔذر بھی تو ہو سکتا ہے

اے معطر! نہ جان اِس فن کو حقیر

تیرے الفاظ میں اثر بھی تو ہوسکتا ہے

Leave a Reply