Literature,  Urdu

انتہائے درد اور قطرہ قطرہ اشک

!یہ بھی تو انتہائے محبت ہے جانِ من

میں تجھکو چھوڑتا ہوں بہت منزلوں کے بعد

قطرہ قطرہ اشک

اس سوختہ دل کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں دوست

بس کچھ مہلت اگر آوارگی سے مجھ کو ملے

 

میں اپنے دیس کے سب بلبلوں کو یاد رکھتا ہوں

میں شاخِ گُل ہوں پھولوں کو یاد رکھتا ہوں

 

جاگتی آنکھوں میں نیندوں کے خمار اچھے ہیں

پیار کے دھاگے جو اپنے ہیں بہت کچے ہیں

یہ معطؔر کہے بھی کیسے تمہیں سب کے بیچ

آپ جھوٹے ہیں اور ہم بیچارے سچے ہیں

 

آخر چلے وہ آئے ہماری گلی کے سنگ

جیسے ہوا چلی ہو کسی بند گلی کے سنگ

آہ! امتحانِ شوق کا پرچہ سہل نہیں

 

 خود ہی محفل کا ساقی بھی، میخوار بھی

میں طلبگار بھی ہوں اور بیزار بھی

 

Leave a Reply