انتہائے درد اور قطرہ قطرہ اشک

!یہ بھی تو انتہائے محبت ہے جانِ من

میں تجھکو چھوڑتا ہوں بہت منزلوں کے بعد

قطرہ قطرہ اشک

اس سوختہ دل کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں دوست

بس کچھ مہلت اگر آوارگی سے مجھ کو ملے

 

میں اپنے دیس کے سب بلبلوں کو یاد رکھتا ہوں

میں شاخِ گُل ہوں پھولوں کو یاد رکھتا ہوں

 

جاگتی آنکھوں میں نیندوں کے خمار اچھے ہیں

پیار کے دھاگے جو اپنے ہیں بہت کچے ہیں

یہ معطؔر کہے بھی کیسے تمہیں سب کے بیچ

آپ جھوٹے ہیں اور ہم بیچارے سچے ہیں

 

آخر چلے وہ آئے ہماری گلی کے سنگ

جیسے ہوا چلی ہو کسی بند گلی کے سنگ

آہ! امتحانِ شوق کا پرچہ سہل نہیں

 

 خود ہی محفل کا ساقی بھی، میخوار بھی

میں طلبگار بھی ہوں اور بیزار بھی

 

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply