شورش دل کا انتساب

شورشِ دل کیا مار دے گا مجھے

یا خون لے کر سنوار دے گا مجھے

انتساب

اس درد پارے کا انتساب ان جذبوں کے نام کر رہا ہوں جن کو نہ تو کوئی نام دیا جاسکتا ہے نہ ہی جن کے بارے میں کلام کیا جا سکتا ہے۔ یہ آتشِ درد جسے تم اس کاغذ کے چہرے پر دیکھ رہے ہو میرے شعور کی کوکھ سے جنم لیے ہو ے ہے۔ میرے انفراد کی بھٹی سے نکلے ہوے ریگزروں جیسے الفاظ میرے خون جگر سے گندھے ہوے ہیں۔ شاید تم میرے الفاظ میں میرے درد دل کی سرخی محسوس کرو۔

میری جان! میرے مخاطب! میرے رفیق! اس کا انتساب تیرے نام ہے۔

علی معطر

دسمبر15، 2018

لائینز ایریا، کراچی

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply