kalam e muattar
Urdu,  شاعری

شورش دل کا انتساب

شورشِ دل کیا مار دے گا مجھے

یا خون لے کر سنوار دے گا مجھے

انتساب

اس درد پارے کا انتساب ان جذبوں کے نام کر رہا ہوں جن کو نہ تو کوئی نام دیا جاسکتا ہے نہ ہی جن کے بارے میں کلام کیا جا سکتا ہے۔ یہ آتشِ درد جسے تم اس کاغذ کے چہرے پر دیکھ رہے ہو میرے شعور کی کوکھ سے جنم لیے ہو ے ہے۔ میرے انفراد کی بھٹی سے نکلے ہوے ریگزروں جیسے الفاظ میرے خون جگر سے گندھے ہوے ہیں۔ شاید تم میرے الفاظ میں میرے درد دل کی سرخی محسوس کرو۔

میری جان! میرے مخاطب! میرے رفیق! اس کا انتساب تیرے نام ہے۔

علی معطر

دسمبر15، 2018

لائینز ایریا، کراچی

Leave a Reply

%d bloggers like this: