kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

آؤ کبھی ہمارے سنگ حجاب اُٹھا کر

آؤ کبھی ہمارے سنگ حجاب اُٹھا کر

ساقی اپنے میخانے کی کتاب اُٹھا کر

ایک دوگھونٹ پینے سے جی بھرے گا کیا میرا

پلادے آج نظروں سے شراب اُٹھا کر

کر ہونٹ میرے سامنے شیشے کی صراحی

آج ہونٹ پھر جلا میرے تیزاب اُٹھا کر

کب تک ہو یہ سنگساری میرے پاس چمن میں

تم بھی تو کرو وار اک گلاب اُٹھا کر

لوگے اور کتنا پیار کا آہ! امتحان دل

کہو تو پھر دکھاؤں ایک مضراب اُٹھا کر

آذاد پنچھی ہوں میں، مجھے قید کرو گے

آؤنگا جب بھی میں تو اک عذاب اُٹھا کر

آؤ میرے لہو سے لکھو پیار کی تعریف

اس میں پھر دیکھنا، میرا جواب اُٹھا کر

مخزنِ درد

Leave a Reply