kalam e muattar
Urdu,  ادب,  بلاگ,  شاعری

اے دل بُرا نہ مان یہ ایک شام ہی تو ہے

اے دل! بُرا نہ مان یہ ایک شام ہی تو ہے

ساقی کے التفات میں ناکام ہی تو ہے

کیا میکدہ، سبو کیا، محبت کی آرزو

دیکھیں گے لبِ یار کو کہ جام ہی تو ہے

کیا اپنی جستجو کہ مسلسل خمار میں

ایک بے وفا کے عشق کا الزام ہی تو ہے

کس کس کا توڑیں منہ کہ بے شمار ہیں رقیب

یہ لفظِ دلفریب بس دشنام ہی تو ہے

روٹھے تو پھر جہان کا نقشہ بدل گیا

اس کی گلی میں دل، فقط بدنام ہی تو ہے

کوئے جاناں میں پھر لگی ہے قیمتِ سر، دل

آہ! موت بھی اک طرح سے ناکام ہی تو ہے

پوچھا ہے یہ ہر روز دلِ زار سے،ادا

ایک پیکرِ جفا کا فقط نام ہی تو ہے

خواب و خیال سے پرے اک جام تھا ازل

سنتے ہیں اس کا نام، میرا نام ہی تو ہے

مخزنِ درد

Leave a Reply