kalam e muattar
Urdu,  ادب,  بلاگ,  شاعری

اے دل کیا تو نے اب بھی ستمگر نہیں دیکھا

اے دل! کیا تو نے اب بھی ستمگر نہیں دیکھا

میں جسکو چاہتا ہوں اس کا گھر نہیں دیکھا

وہ بے رخی، وہ نازوادا میرے سامنے

سبکو تو اس ادا سے بہرور نہیں دیکھا

عاشق ہوں تیرا میں نہیں غلام جانِ من

تم نے کیا کبھی مجھ سا سخنور نہیں دیکھا

کیا جانوں میں کہ نوری ہوں یا خاکی دوستو

میں نے بھی حقیقت میں اپنا گھر نہیں دیکھا

اک زخمی کبوتر جو یہاں آتا تھا اکثر

تم نے کیا اس کا ٹوٹا ہوا پر نہیں دیکھا

کھویا ہے اک عرصے سے معطر، اے جان و دل

تم نے کیا میری جان! اسکا گھر نہیں دیکھا

مخزنِ درد

Senior writer, author, and researcher at AromaNish, specializing in Psychology with an impact on information technology. As a writer, he writes about business, literature, human psychology, and technology, in blogs and websites for clients and businesses. Enjoys reading, writing and traveling when he is not here with us...

Leave a Reply

%d bloggers like this: