Blog Literature Urdu

اے جاناں

اے جاناں

پھر تیری یاد ہے کہ اہلِ جفا کی مانند

دلِ ضیف کو پارہ پارہ کرے

خوابِ گم گشتہ آشکارا کرے

پھر غمِ زیست کا ہنگام ہے درپیش

پھر وہی روشنی کی باتیں ہیں

پھر شبِ تار کی تیاری ہے

پھر زخمِ کاری کی گل کاری ہے

اے دل! نورِ جہاں کے چراغ

شبِ ہستی کو روشنی دینا

مجھے بیزار بیخودی دینا

شب کو رخسار کے تِل کا کیا مطلب

آنکھیں جب بند ہوں جہاں کی طرح

اے سراپا خمار جلوۂِ حق

ایک تجلی ہو دلِ طور پہ بھی

دلِ خموش سے ہو کلام کبھی

پھر پلا مئے لالہ فام ابھی

میکدہ بند ہے صدیوں سے یہاں

کوئی میکش رہا سلامت کیا

میں کہ بے زر، بے سر سلامت ہوں

کیا اناالحق کا انتظار کروں

دل میں کھو کر تیرا دیدار کروں

ساری دنیا سے میں پیکار کروں

یا غمِ زیست کا تکرار کروں

کچھ بتا لوح و قلم کے مالک

میری تخلیق کا سبب کیا ہے

منِ بیزار و بے ادب کیا ہے

پھر سے ہمراز کردے راز سے مجھے

یا ملا دے دلِ شاہباز سے مجھے

کیا میں پاگل ہوں مثلِ پروانہ

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply