Blog Literature Urdu

بحضورِ اقبال

بحضورِ اقبال

اقبال! تیرے لذتِ خودی کا تعاقب

اک بندۂِ حقیر کو کرتا ہے قلندر

اُس جلوہِ یزداں پہ بے اثر سکندری

ہو جس کے ہر سمت میں بس نوائے ابوذر

وہ قطرہ ہو، ندی ہو یا پھر ہو کوئی دریا

از اشکِ بلبلانِ چمن بنتا ہے سمندر

لائیں گے کئی اور بھی بُت یہ تراش کر

قلبِ حجاز میں کہ یہ ہے ترکہِ آذر

جاگیر دینِ احمؐدِ مختار بن گئی

پھر بھی یہ کہہ رہے ہیں ہوتا کیوں نہیں سحر

گرچے ہے سر ، بسجدہ با درگاہِ ذوالجلال

ہنوز دل میں رکھتے ہیں ہر ترشہِ آذر

اِن کے لیے خودی کا پیام موت ہے گویا

اِن کے لیے خودی کا قیام موت ہے گویا

کو تو تھا خموشیِ مظلوم سے نفرت تجھ

ہے آج بھی تیرے شعلہِ بیدار کی ضرورت

جاگیر تیری فکر ہے روشن و تابندہ

خمیر میں تیرا ذکر ہے محرک و پائندہ

اے میکشوں کے دل تم کیوں خاموش ہو گئے

ہم تو ہمہ تن گوش تھے بیہوش ہو گئے

جذبوں کو تہہِ دامنِ اشعار چھپانا

معنٰی کو پھر آشکار بہ بازار دکھانا

یہ فرض تھا تیرا اور تُو اک مردِ جری تھا

جرأت شناس، دردِ محبت شناس تھا

پھر سے چلے آؤ کہ یہ میخانہ ہے خاموش

ربابِ چمن میں کرو اے دل! ذرا تو ہوش

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started