going
شاعری,  معطر علی

بس بہت دیر، بہت دیر نہ ہو جائے ابھی

Spread the love

بس بہت دیر، بہت دیر نہ ہو جائے ابھی

تم کو جو کھیل بھی ہوں کھیلنے

تم کھل کر کھیلو

دل کو ٹکڑوں میں تم تقسیم کرو

یادیں پائمال کرو

خط میرے جلادو سبھی

مجھ سے تم دور بہت دور چلے جاؤ ابھی

تم اپنی شکل مجھے پھر سے دکھانا ہی نہیں

تم میری زندگی سے دور چلے جاؤ ابھی

تم اپنا نام میرے نام سے مٹاؤ ابھی

تم ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو پیچھا میرا

مجھے اب تم کبھی پھر سے نہ ڈھونڈ پاؤ گے

دیکھ لو تم نے یہ سب کچھ بھی کہا ہے مجھکو

دیکھ لو اپنی ہی نظروں سے گرایا مجھکو

مجھکو جو مان تھا تم پر وہ بھی توڑا تم نے

میرا وجود یوں پائمال سا چھوڑا تم نے

تم نے ہر بات میں یوں زہر سا گھولا جانم

بات کرتا ہوں تو اک آہ سی نکلتی ہے

سانس لیتا ہوں تو زخموں کو ہوا لگتی ہے

یاد کرتا ہوں تو آنکھوں سے خون بہتا ہے

درد سہتا ہوں تو جگر میں آگ لگتی ہے

کچھ بھی لکھتا ہوں تو بس نام تمہارا لکھوں

کچھ بھی کہتا ہوں تو بس ذکر تمہارا کہدوں

کچھ بھی سوچوں تو ہر اک سوچ تم پہ جا کے ختم

کچھ بھی پوچھوں تو تمہیں بات نہیں کرنی ہے

کیا میرا پیار اس قدر تھا یوں ارزاں جاناں؟

جس قدر تم نے اسے یوں کیا رسوا جاناں؟

خود فراموش تھا میں، بس تیرا ہی ہوش مجھے

آج اچھا کیا اوقات دکھا دی تم نے

ہر اک الزام، ہر دشنام کے قابل تھا میں

میں نے یہ دل کیوں تیری راہوں میں بچھایا تھا

جب میں یہ جانتا تھا تم فریب دوگی مجھے

پھر بھی آنکھوں کو کیا بند تیرے چالوں پہ

اتنے خود غرض نہ دیکھے تھے سارے جیون میں

جس قدر تم نے مجھے درشن کرائے اِس کے

اب تو بس گھن سی آتی ہے ذات سے اپنی

میں نے کس طرح تجھ جیسی کا اعتبار کیا

تیرے فریب کو بھی خود ہی سُیکار کیا

خُود کو تیرے لیے امادہِ پیکار کیا

لفظ لفظ جوڑ کے بس تیرا انتظار کیا

ہونے دو مجھ کو پشیماں، میں اِسی لائق ہوں

چلو اب ویسا ہی کرتے ہیں جو تم چاہو گی

میں پھر نام تمہارا کبھی نہ لوں گا کبھی

تم اب میرے لیے مر چکی ہو کب کی

ہوسکے دور بہت دور چلی جاؤ ابھی

شاید رخصت ہی ابھی یوں ہی نہ رہ جائے کہیں

بس بہت دیر، بہت دیر نہ ہو جائے ابھی

Leave a Reply

%d bloggers like this: