Urdu,  ادب,  بلاگ,  تجارت,  کامیابی,  معاشرہ,  نفسیات

بے خواب راتوں کا ثمر

دنیا میں نجانے کتنے لوگ آئے اور گئے، میں اور آپ بھی کچھ دیر بعد جانے والے ہیں۔ کیا اپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر اسی لمحے ہم مر جاتے ہیں تو کیا کچھ دنیا کو دینے سے رہ جائیں گے؟

ہم نے بچپن سے لے کر اب تک اور اب سے لے کر آخری سانس تک اس دنیا اور اس کے لوگوں سے فقط لیا ہے اور اگر ہم دنیا کو کچھ دئیے بغیر ہی چلے جائیں تو یہ دنیا اور اس کے باشندوں کے ساتھ ذیادتی ہوگی۔

وہ تمام تخلیقات اور نئی ایجادات جو فقط ہمیں تقدیر کی طرف سے ملے ہیں اور جسے ہم ہی اس دنیا میں لا سکتے ہیں تو اگر ہم کوتاہی کریں تو وہ سب ہمارے ساتھ قبر میں دفن ہو جائیں گے ہمیشہ کے لیے۔۔۔

نجانے کتنے خواب ہونگے جن کے بھوت مرتے وقت ہمارے سرہانے کھڑے ہو کر ہمیں ناراض آنکھوں سے گھورتے رہیں گے اور یہ کہہ کر ہمارا دل غم سے بھرتے رہیں گے۔ کہ ہم انہیں زندگی بخش سکتے تھے مگر اب وہ سب ہمارے ساتھ دفن ہونگے اور دنیا کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کبھی ہم بھی اس کی سطح پر چلتے تھے اور اب اس کے پیٹ میں ہیں۔

سخنوروں اور لکھاریوں کے الفاظ کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔ انکا ایک ایک لفظ کسی کی زندگی بنا یا بگھاڑ سکتا ہے۔ تبھی تو مذہبی روایات نے الفاظ کے ذریعے کائنات کے تخلیق کی بات کی ہے۔

نفسیات میں کسی بھی تخلیق کے تین مراحل ہوتے ہیں، سوچ یا ذہنی خاکہ۔۔۔ الفاظ یا سوچ کا اظہار، اور عمل۔ کائنات اور حتیٰ کہ ہم جو مخلوقِ باشعور ہیں تو انہی مراحل سے گزر کر تخلیق کے ہمراز ہوتے ہیں۔

اس بارے میں فقط ایک تخلیق کار ہی جانتا ہے کہ ایک تخلیق کن مراحل سے گزر کر معرضِ وجود میں آیا ہے۔ دنیا اور اس کے عیال سے تخلیق کار کا کوئی سروکار نہیں کہ وہ اس کے تخلیق کو کس طرح خوش آمدید کہیں۔ اسے سر آنکھوں پہ بٹھائیں یا آگ کے سپرد کر دیں۔

ازل سے یہ روایت رہی ہے کہ

؎

سناں کی نوک کبھی شاخِ دار پر محسؔن

سخنوروں کو ملے ہیں مشقتوں کے صلے

تاہم کر گزرنے والے کر گزرتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ صلے میں تخت ملتا ہے یا دار۔۔۔

نجانے کتنے لوگ ہیں جن کی بے خواب راتوں کا ثمر ہم لے رہیں ہیں؟

یہی الفاظ کتنی مشکلوں سے بنے ہونگے کتنے لوگوں نے اسے اپنی اگلی نسلوں تک پہنچانے میں کتنی راتیں قربان کی ہونگی؟

کتنے لوگوں کی محنتوں سے ہم ایک خوشحال، صحت مند اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں؟

کبھی سوچتا ہوں تو کہتا ہوں کہ میرے اِن بے خواب راتوں کا ثمر کیا ہے؟

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کے بے خواب راتوں کا ثمر کیا ہے۔۔۔؟

Leave a Reply