Blog Literature Urdu

حُسنِ مجبور بکا آج بھی بازار کے بیچ

حُسنِ مجبور بکا آج بھی بازار کے بیچ

لوگ بولی جو لگاتے رہے اغیار کے بیچ

آہ! وہ شاخِ بوسیدہ میرے دل ٹوٹ گیا

تھا جس پہ سبکو اعتبار سبھی اشجار کے بیچ

کون جلتا ہے، جلاتا ہے بے سبب واعظ

تم بھی دیکھو مجھے پھر تیغ و تلوار کے بیچ

دل کے بازار میں پھل پھول سبھی بِکتے ہیں

تم نے دیکھا ہے کبھی دل میرا اثمار کے بیچ

میں معطر کو کروں معاف یا کروں نہ کروں

وہ جو الجھا ہے ابھی مُلا اور میخوار کے بیچ

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started