kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

اچھا ہوا کہ حُسن سے بیزار ہوگئے

اچھا ہوا کہ حُسن سے بیزار ہوگئے

ایک ضبط ہے جو کرکے بہت خوار ہوگئے

اچھا ہوا کہ تم سے ملاقات ہو گئی

اچھا ہوا کہ زہر تیرا جان گئے ہم

اچھا ہوا کہ خواب سے آگے نہ کچھ ہوا

اچھا ہوا کہ ضبط خود ہی ٹوٹ سا گیا

اچھا ہوا کہ یاد مجھے تیرا کچھ نہیں

اچھا ہوا کہ زندگی آہوں میں لُٹ گئی

اچھا ہوا کہ پیار میرا راس نہ آیا

اچھا ہوا کہ دار چڑھا کے تم خُوش ہوئے

اچھا ہوا کہ چہرہ تیرا خود ہی بہہ گیا

اچھا ہوا کہ دید مسلسل فراق تھی

اچھا ہوا کہ یاد بمثلِ تیزاب تھی

اچھا ہوا کہ تشنہ لبی کام آگئی

اچھا ہوا کہ مجھکو بھی پہچان ہوگئی

اچھا ہوا کہ تو بھی تو ناکام ہو گئی

ایک باغی کے خُلوص کی غلام ہو گئی۔۔۔

اچھا ہوا ضمیر تیرا میرا دوست ہے

اچھا ہوا کہ اب تیرا احساس مرگیا

مجھکو تھا تیرا پاس سو اب پاس نہ رہا

جتنا تیرا احساس تھا احساس نہ رہا

اچھا ہوا کہ میں تجھے اب یاد نہ رہا

اچھا ہوا کہ میں تیرا فرہاد نہ رہا

اچھا ہوا کہ مجھکو بھی کچھ یاد نہ رہا

وہ شکوے، شکایات، وہ تیرے غمزہ و عشوہ

وہ ناز و انداز، تیرا راز و نیاز

وہ صبر میرا، جبر تیرا تھا جو مسلسل

اب یاد نہیں کوئی بھی فریاد مجھے تو

اب یاد نہیں کوئی بھی صیاد مجھے تو

اچھا ہوا کہ وقت کے سیلاب میں بہے

اچھا ہوا کہ تم سے کوئی واسطہ نہیں

تم سے ہی کیا اب خُود سے کوئی رابطہ نہیں

اچھا ہوا کہ حُسن سے بیزار ہوگئے۔۔۔۔

ناتمام

Leave a Reply