kalam e muattar
Urdu,  شاعری

تیرا یوں الودع کہنا

بہت اچھا لگا مجھ کو

تیرا یوں الودع کہنا

مگر کچھ پیار سے کہتے

مجھے بھی یار تو کہتے

پرایا تو نہیں تھا میں

تمہارے ساتھ بیتاے تھے

کیئ لمحے تنہائ کے

بہت اچھا لگا مجھ کو۔۔۔

مگر اے جانِ من! سوچو

یہاں طوفان آئیں جو

یا آندھیوں کے طوفانوں میں

میں کس کے پاس جاونگا؟

کسے میں درد سُناوُنگا؟

کس کی خاطر میں نغمے گُنگُناوُنگا؟

ذرا تو یہ بھی کہہ دیتے۔۔۔

بہت اچھا لگا مجھ کو

تمہارا روٹھ سا جانا

ذرا سی ٹھیس سے بھی

شیشہِ دل ٹوٹ سا جانا

تمہیں کچھ بھی نہیں لگتا؟

کیا میں اک دل نہیں رکھتا؟

کیا میں خواہش نہیں رکھتا؟

کیا بستی میں، میں تجھ سا کوئی بھی مہوش نہیں رکھتا؟

کیا میں شرر نہیں، خود میں کوئی آتش نہیں رکھتا؟

کیا تٌو اب دل میں مجھ سے کوئی بھی خلش نہیں رکھتا؟

یہی تو پوچھنا تھا کہ

تم نے تو الودع کہہ کے

مجھے خاموش کر دیا

ادائےِ بِے رُخی سے جانِ من!

بہوش کر دیا

اور جب میں ہوش میں آیا

تو تُو تو جا چکا تھا دوست!

بہت اچھا لگا مجھ کو۔۔۔

تیرا یوں الودع کہنا۔۔۔

علی معطر

Leave a Reply