Blog

بہت دل کو کشادہ کر لیا کی

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا

 تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی

تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا

 ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ

مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا

 جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے

کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا

 بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے

گناہ ترک بادہ کر لیا کیا

 یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں

سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا

 اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک

بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا

 تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں

بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا

 بہت نزدیک آتی جا رہی ہو

بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started