kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

چلو ایسا کریں اے دل ستارے بانٹ لیتے ہیں

چلو ایسا کریں اے دل ستارے بانٹ لیتے ہیں؎

ہم اپنے پیار کے جھوٹے سہارے بانٹ لیتے ہیں

چلو اس کو بھی ہم سوداگری سمجھیں تو اچھا ہو

کہ ہم اپنے نفعے اپنے خسارے بانٹ لیتے ہیں

میں ہوں سنسان ساحل پر، چلو ایسا کریں اے دل

ہم اپنی ذات کے کچھ ہی کنارے بانٹ لیتے ہیں

تم اپنے دکھ مجھے دے دو، میری خوشیاں سبھی لے لو

ہم اپنی عادتیں، جذبے بھی سارے بانٹ لیتے ہیں

ہم اپنے شہر میں رسوا معطر اس لیے تو ہیں

کہ اپنے شہر کے دکھ درد سارے بانٹ لیتے ہیں

؎ فیؔض کی غزل سے متاثرہ

مخزنِ درد

Leave a Reply