characteristics of strong people handling problems
ادب,  بلاگ,  رائے,  کالم

حالات سے مقابلہ کرنے والے لوگوں کے خُصوصیات

حالات زندگی کا جبر ہوں یا پھر فقط صبر۔۔۔ مقابلے کے متقاضی ہوتے ہیں۔ سقوط یا شکست تسلیم کرنا فقط مُردہ لوگوں کا شیوا ہے۔ سچ ہے کہ؎

مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

زندگی زندہ دلی کا نام ہے اور فقط زندہ دل ہی جانتے ہیں کہ حالات کے مقابلے میں آخر تک کیسے کھڑے رہا جاتا ہے؟ اگر یہ موت ہے تو اُسے اِس قدر انتظار کروایا جائے کہ جب تک مقصد حاصل نہ ہو تب تک خوابوں کا تعاقب کیا جائے۔ وہ اِس لیے بھی کہ ؎

زندگی پر جو لوگ چھا جائیں

موت اُنکا طواف کرتی ہے

ابھی اپنے تھیسس کے لیے حالات سے نمٹنے کا پیمانہ ترجمہ کر رہا تھا تو کافی حیرت ہوئی کہ کچھ لوگ حالات کا دھارا کیسے بدلتے ہیں اور کچھ لوگ حالات میں کیسے پیستے رہتے ہیں۔ تمام تر حیرتوں کو پسِ پُشت ڈال کر اتنا ہی جان پایا ہوں کہ وہ جو حالات کو بدلتے ہیں اور وہ جو حالات میں بدلتے ہیں بلحاظِ جسم و جسمانیت فرق نہیں ہوتا، ہوتا ہے فرق تو فقط اُس ذہنی کیفیت کا جو ہم اُس وقت رکھتے ہیں۔

حالات کا دھارا بدلنے والے مندرجہ ذیل خُصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔

مثبت دیکھنے کی کوشش

چاہے حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں وہ حالات کا مثبت رُخ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ مشکلات سے ایک قدم پیچھے جا کر مختلف زاویہ نظر سے دیکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ آخر اِس صورتِ حال میں اُن پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ اور وہ کس طرح سے اِس سے نبردآزما ہوسکتے ہیں؟ اگر اِن کے سر کٹنے کی باری ہو تو بقولِ اقبالؔ شمشیر کی آب دیکھنے کی خواہش انہیں عام لوگوں سے ممتاز بناتی ہے۔ اگر یہ موت کی بستر پر ہوتے ہیں تب بھی کیک کی تعریف کیے بنا نہیں رہتے۔ اِن کی زندگی اتنی بھرپور ہوتی ہے کہ فقط کہتے ہیں میں چلا اور پوچھتے ہیں کہ کہاں؟ تو یہ دوسرے جہاں کی سیر کے لیے نکل چُکے ہوتے ہیں۔ جو بقولِ سٹیو جابز کے وہ پاگل لوگ جو دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں اور یہی لوگ دُنیا بدل بھی دیتے ہیں۔

متبادل حل دیکھنے کی کوشش

یہ لوگ اِس مشکل کے کئی متبادل حل دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ہماری طرح دیواروں سے سر نہیں ٹکراتے۔ یہ بند گلی میں بھی راستوں کی کھوج لگاتے ہیں۔ نہ فقط اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی۔ ہماری ایک اُستاد کی یہ بات آج تک یاد ہے مجھے کہ عقلمند وہ ہے جس کے پاس کئی متبادل ہوں۔ اور میرے نزدیک تجربات کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ اُن لوگوں کے حالات کچھ بھی نہیں بگاڑ پاتے جن کے پاس کئی اور متبادل ہوں اور وہ لوگ حالات کے جبر و قہر کا شکار ضرور ہوتے ہیں۔ جن کے پاس کوئی بھی متبادل نہ ہو۔

حسِ مزاح

اِن لوگوں میں حسِ مزاح کمال کی ہوتی ہے۔ یہ ہر حال میں مزاح دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موت کی دہلیز پہ بھی یہ مزاح کیے بِنا نہیں رہتے۔ ہر مشکل حالت میں مزاق کرنا ان کا شیوا اور طریقہ ہے۔ کوئی عیادت کرنے جائے تو کہتے ہیں لو جی تم بھی آخری دیدار کے لیے آگئے؟ اتنی جلدی تم لوگوں کا پیچھا نہیں چھوڑنے والا۔ طلاق کے وقت کہتے ہیں۔ یار سالوں بعد بیوی یا شوہر کو پتہ چلا کہ گاڑی کے دو پیہے ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے تو میکنک سے بدلنے کی اپیل کی ہے۔ اپنوں کی موت پہ کہتے ہیں شکر ہے کہ مزید غم سہنے کو زندہ نہیں رہے۔ نیز اپنے لیے وہاں سیٹنگ کرنے گئے ہیں۔ یہ پوچھنے کے استفسار پر کہ وہ کیا کر رہے ہیں تو کہتے ہیں ناچ رہے ہیں اور اگر ایسا جواب کوئی اور دے تو جھٹ سے کہتے ہیں کہ اکیلے اکیلے۔۔۔ اِس لاجواب حسِ مزاح سے یہ مشکلات کی شدت کو ختم یا پھر کم کر لیتے ہیں۔ اور شاعر نے بھی کیا خُوب کہا کہ ؎

جو اِس عالم میں بھی مسکرائے

باخُدا مجھکو خُدا لگتا ہے

طویل المعیاد منصوبے

یہ جب بھی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں تو یہ اِس بارے میں سوچتے ہیں کہ یہ میرے لیے ضروری لینے والے اقدامات کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ طویل المیعاد منصوبوں، خوابوں، آرزؤں اور تمناؤں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ ہر مشکل سے کچھ ایسا سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو اِنہیں بعد میں کام آسکیں۔ یہ بار بار خُود کو آگ میں نہیں جُھلساتے فقط یہ دیکھنے کے لیے کہ آگ جلاتی ہے یا نہیں۔ بلکہ وہ اک بار جلنے پر پھر کبھی آگ کے گرد چکر نہیں لگاتے۔

اصل اور مجاز کا فرق

یہ لوگ اصل اور مجاز میں فرق کرنا جانتے ہیں۔ یہ اکثر یہ یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ مسئلہ اتنا سنجیدہ نہیں جتنا کہ دکھائی دیتا ہے۔ اصل مسئلہ کبھی بھی اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا کہ ہماری سوچ اِسے بنا دیتی ہے۔ شکسپئیر تو اس حد تک گئے ہیں۔ کہ کوئی چیز بذاتِ خُود اچھی یا بُری نہیں ہوتی ہماری سوچ اِسے اچھا اور بُرا بنا دیتی ہے۔ اگرچہ اس سے مکمل اتفاق تو مشکل ہو مگر مکمل انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ حالات کی نزاکت اور اس سے ہلاکت فقط بے خبروں کے نصیب میں ہوتی ہے۔

جسمانی حرکت کا استعمال

یہ لوگ بیٹھ کر اپنی بربادی کا تماشا نہیں دیکھتے۔ بلکہ اکثر ورزش، مشاغل اور مراقبے کو مشکل حالات سے گزرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حالات کے شدت میں اِس کے متعلق مزاق کرتے ہیں تاکہ اِسے ہلکا کر سکیں۔

وہ ناممکنات میں سر نہیں کھپاتے

وہ ناقابلِ تغیئر حالات و واقعات سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ وہ جھوٹی بیساکھیوں کے سہارے نہیں جیتے۔ وہ اپنا اور اپنے گھر والوں کا خیال رکھتے ہیں۔ تاکہ بہتر مستقبل کے لیے اقدامات کر سکیں۔

عادات کا بدلاؤ

وہ مستقبل کی بہتری کے لیے اپنی عادات جیسے کہ غذا، ورزش، مالی انتظامات اور ان لوگوں کے قریب رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جن کا خیال رکھنا چاہتے ہیں۔

نتیجہ

یہ اور اِس جیسی کئی اور خُصوصیات حالات سے مقابلہ کرنے والوں کو عام لوگوں سے ممتاز کرتے ہیں اور یہی ذہنی روش اپنا کر کوئی بھی اپنے اندر حالات سے مقابلے کے لیے تیاری کر سکتا ہے۔ اور انکی غیر موجودگی تمام حالات کے سامنے ہتھیار پھینکنے کے مترادف ہے۔ کتنا ہی اچھا ہو کہ ہم سب حالات سے لڑنے اور اُنہیں شکست دینے کی کوشش کریں۔