Urdu,  ادب,  ذرائع ابلاغ,  رائے

لکھنے اور لکھاری بننے کے مراحل اور راستے کے پتھر

لکھنا اور لکھتے رہنا اور لکھتے چلے جانا یہ جملہ فقط خواب میں ہی اچھا لگتا ہے۔ اقبال صاحب نے صحیح کہا تھا کہ

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

وہ سبھی نوجوان جو لکھنے سے شغف رکھتے ہیں اور کامیابی کے سہانے خواب دیکھتے ہیں۔ تو انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اس راہ میں ناکامیوں کے اژدھام سے بھی سامنا ہوتا ہے۔ دل و جگر سلامت ہوں اور نا کہنے کی جرأت ہو تو یہ دولت، شہرت اور عزت کے قریب ترین شہراہ ہے مگر

 نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے؟

لکھاری دوستوں کا دل توڑنا مقصد نہیں حقیقت پسندی سے حالات کا دوسرا رخ بتانا مقصود ہے۔ ہم وہ لوگ جنہیں زمانے کی بکواسیات سے ذیادہ اپنی ذات اور سماج کے صفات و رذائل سے غرض ہے اور جنہیں دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا، پرکھنا اور دکھانا ہے۔ اُنہیں صرف یہ بتانا ہے کہ

یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجیئے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔۔۔


تو آپ تیار ہیں؟ لیجیئے سب سے پہلی سیڑھی۔۔۔ انٹرویو یہ وہ آگ کا دریا ہے جس کے ذریعے آپ نے منزل کی طرف سفر کرنا ہے۔ جب بھی آپ کہیں سی وی بھیجیں تو دھیان رکھیں کہ اس میں اپنے متعلق کم اور اپنی لکھائی کے بارے میں ذیادہ لکھیں۔

کہاں کہاں لکھا، کس کس موضوع پر لکھا اور مزید کس چیز پہ لکھنا چاہتے ہیں؟ یہ ممکنا ادارے کو آپ کے بارے میں اور آپ کو اُن کے بارے میں ضروری معلومات دے دے گا کہ کیا وہ آپ جیسے صلاحیتوں والے کو رکھنا چاہیں گے یا آپ اس قسم کے ادارے یا جگہ پر کام کرنے کو پسند کریں گے؟

سی وی میں صرف متعلقہ معلومات کو ہی جگہ دیں جو مطلوب ہیں جن کے بارے میں آپ بات کرکے خوشی محسوس کریں۔

اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ سنار ہیں اور ایک صاحب کو ہیرے کی انگوٹی چاہیئے۔ اگر آپ پورا دن اس میں لگا دیں کہ اپ سونے کے بہترین ڈیزائین بتاتے ہیں اور وغیرہ وغیرہ کیا اپ گاہک اور اپنے ساتھ بھلا کر رہے ہیں؟ یقیناً نہیں، اسے ہیرے کی انگوٹھی چاہیئے اگر اپ کے پاس ہے تو دکھائیے اور اگر نہیں تو صاف منع کیجیئے۔ اس میں دونوں کا بھلا ہوگا۔

اسی طرح ادارے کو جو چاہیئے اگر اپ کے پاس ہے تو دکھایئے نہیں تو جانے دیجئیے اس میں دونوں کا فائدہ ہوگا۔ اب آتے ہیں حقیقت کی دنیا کے چند اتفاقات پر، یہ اگرچے ذاتی نوعیت کے ہیں مگر فقط مثالیں ہیں اور انہی حالات سے گزر کر میں اپنی پسندیدہ ترین کام اور ادارے تک پہنچ پایا۔

سب سے پہلے ابتدائی چند انٹرویوز و ٹسٹ کی روداد ملاحظہ ہو۔ ایک ادارے نے انٹرویو کے لیے بلایا اور پھر ایک گھنٹے تک انگریزی زبان کے گرامر کی مغز ماری کے بعد کہا آپکو بتایا جائے گا کہ آپ کا کام ہوا یا نہیں۔ اُسی رات ایمیل کے ذریعے بتایا گیا کہ اپ کے سی وی کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ہم نے کم تعلیمی یافتہ شخص کو چن لیا ہے۔

ایسا ہونا ممکن ہے کیونکے بعض ادارے آپ کو آپ کے معیار کے مطابق تنخواہ نہیں دے سکتے اس لیے یہ اک بہترین وجہ ہے کہ وہ آپ کو کام نہیں دے پاتے۔ اس پہ پریشان ہونے کی بجائے اُن کا شکریہ ادا کیجیئے۔

ایک اور جگہ فرش دھونے کے اوزار بیچنے کے لیے ۵۰۰ الفاظ پر مشتمل اڑٹیکل لکھنے کا کہا گیا۔ یہ میرے کیرئیر کا عجیب ترین انٹر ویو تھا۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ ہیری پورٹر کی مصنفہ جے کے رولنگ اور مشہور لکھاری سٹفن کنگ دونوں لکھاری یا

content writer

کے طور پہ کام کرتے رہے مگر ہر شخص کی قسمت میں ایسا بننا نہیں لکھا ہوتا۔

اس لیے اس طرح کے مزاحقہ خیز انٹرویوز کے لیے تیار رہیں کہ ذیادہ تر کام اشتہاری نوعیت کا ہوتا ہے۔ آپ کا تخلیقی کام آپ کا ایکسٹرا کام ہے۔ ضروری نہیں کہ ادارے کو اس کی ذرا برابر بھی پروا ہو۔ بس اُمید مت چھوڑیئے ایک دن آپ نے ہیرے کی طرح چمکنا ہے ابھی کی بکواسیات کو میں فقط

side hustle

کہونگا اور اسے یہیں تک محدود رکھنا چاہیئے۔

ایک اور جگہ تین میں سے اک عنوان پہ پانچ سو الفاظ کا بلاگ لکھنے کو کہا گیا۔ایک دوسری جگہ ایک ایونٹ کا برشر دیا گیا کہ اسے دوبارہ اپنے انداز میں لکھیں۔

یہ اور اس جیسے بیشمار اوٹ پٹانگ چیزیں آپکو دی جا سکتی ہیں۔ مگر میری گذارش یہ ہے کہ ان مواقع پر تلخی مت دکھائیے بلکہ انتہائی مہذب طریقے سے یہ سب کچھ برداشت کیجیئے بعض جگہ تو مجھے لگتا ہے کہ وہ نوکری یا کام کی بجائے اپ کے صبر اور برداشت کا امتحان ہوتا ہے اس امتحان میں زندگی بھر فیل نہیں ہونا آپ کو کہ آپ اپنے وقت اور دور کی آواز ہیں یہ چھوٹی چیزیں اگر آپکو ڈسٹرب کر دیں تو سمجھیں اپکا ہنر خام ہے اسے حالات کی بھٹی میں سے گزرنا چاہیئے۔ بعض انٹرویو سے پہلے ایک فارم بھرتے ہیں جو کہ آپکے ذاتی کوائف اور کام اور تنخواہ سے متعلق ہوتا ہے۔

یہ کچھ آگ کے دریا ہیں جو کہ اپکو عبور کرنے ہیں چاہے اپ کتنے بھی قابل، تجربہ کار اور پختہ کار کیوں نہ ہوں اپکو اِن آگ کے دریاؤں میں ڈوب کے ہی جانا ہے۔ لکھنا ایک خطرناک پیشہ ہے۔ یہ سبھی کو راس نہیں اتا۔ اس پیشے میں چالاک اور عیار قسم کے لوگوں کی حکومت ہے۔ اِن کے بس میں ہو تو اپکو اور اپکے الفاظ کو کوڑیوں کے مول لے لیں۔

مگر یہ اپ کا کام ہے کہ اپنے لیے اور اپنے فن کے لیے مارکیٹ اور دام اپ خود بنائیں۔ دوسروں کی مرضی اور موڈ کا انتظار نہ کریں۔ اگر انہیں ضرورت ہوگی تو وہ اپکو رکھیں گے نہیں تو ایسی جگہ کام کرنے سے بہتر ہے کہ اپ کام ہی نہ کریں جہاں اپ کی ضرورت نہ ہو۔ ذہنی کوفت سے بچیں لکھاری کے لیے اس سے بڑا عذاب کوئی نہیں۔

یقین کریں اپ کا واسطہ انٹرویو میں ایسے اناڑی ایچ ار والوں سے بھی ہوگا۔ جنہیں یہ بھی نہیں پتہ ہوگا کہ لکھاری کا لام کیسے لکھا جاتا ہے۔ ہایرنگ اور فائرنگ کا فیصلہ پہلے اک منٹ میں کیا جاتا ہے۔ باقی کا وقت صرف وقت گزاری کے لیے ہوتا ہے۔ اپ کے بیک گروانڈ کے بارے میں پوچھنا اور اسی قبیل کے باقی شغل بازی وقت گزاری کا سامان ہوتا ہے۔۔۔

اگر آپ اِن تمام مراحل سے باآسانی گزر جاتے ہیں اور اس دوران خود میں سوائے صبر و برداشت، عزم و ہمت اور مقصد کے حصول کی پیاس کی شدت محسوس کریں تو یقین کیجیئے مستقبل آپ کا ہے صرف آپ کا۔۔۔ اس کامیابی پر ابھی سے میری مبارکباد قبول کیجیئے۔

اگر آپ اس حوالے سے مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے ضرور دیجیئے۔

؎ اب تو چلتے ہیں میکدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خُدا لایا۔۔۔

Leave a Reply