Literature,  Urdu

دامِ آخریں

اُس کی زلفوں کی نرم چھاؤں میں
جان دینے کا سوچ کر ہم نے
زندگی کے محاذ پر میں نے
جان دے دی اُسی کے قدموں میں
یہ تھی قسمت کہ جان سے گُزرے
وقت کے امتحان سے گُزرے
بیوفا کے مکان سے گُزرے
اُس کو چاہت تھی مال و دولت کی
ہم نہ تھے اقتدار کے بھوکے
اور ہمیں پیار تھا ویرانے سے
اُسے بیدرد اِس زمانے سے
یوں ہوا پھر کہ وہ بدل نہ سکے
میرے دل! ہم بھی تو سنبھل نہ سکے
ساری دُنیا میں ہم پاگل ٹھہرے
اپنی صحرا کے ہم بُلبُل ٹھہرے
اُس کی عادت تھی سب کچھ لینے کی
اور ہم دل کا سودا کر نہ سکے
اور پھر یوں ہوا کہ ہم دونوں
رستوں میں ہی کہیں کھو گئے
منزل پہ پہنچ کے سوگئے
تھک کے مرنے سے قبل زہرِاجل
پی کے مرنا پڑا آخر ہم کو۔۔۔

Leave a Reply