Literature,  Urdu

دمِ رُخصت

یوں اگر چھوڑ کے جانا تھا تو پہلے سے کہتے

میں نہ برسوں سے تیرے پیار کی خاطر جیتا

نہ تیرے پیار کے حصار میں کھویا رہتا

نہ تیرے شہر کی گلیوں کو میں ساحل کہتا۔۔۔

تمہیں جانا ہی تھا ایسے تو پھر پہلے کہتے

نہ تیری فکر میں اِس طرح سے ڈوبا ہوتا

نہ ہی اِس شاخِ محبت سے گُریزاں ہوتا

نہ تیرے لذتِ دیدار سے پریشاں ہوتا

نہ تیرے حلقۂِ یاراں سے پریشاں ہوتا۔۔۔

تمہیں جانا تھا تو پھر اِتنا بتا کے جاتے

کہ میرا ہاتھ، کس کے ہاتھ میں رکھا تو نے

مجھے بے آس زمانے میں کیوں چھوڑا تو نے

خودفراموش سہی، فکرِ بداماں ہی سہی

کچھ تیرے پیار کے حدت میں جو لفظ بولے ہیں

لے کے آئے ہیں اب بازار میں ساؔحر کی طرح

بیچ دیں شعر، نظم، غزلیں اور لمحاتِ نشاط

جو تیرے ہونٹوں کے ساغر سے ہیں کشید کیے؟

Leave a Reply