kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

دین کے نام پہ ظالم یہ کیوں

میں مر رہا ہوں زمانے میں مگر کس کے لیے

میں جل رہا ہوں بتکدے میں مگر کس کے لیے

بس تماشے کے لیےاک ہی سجدے کے لیے

خون پینے کے لیے، اشک بہانے کے لیے

ساغر و جام کو توڑا ہے زاہدوں کی طرح

ہر در و بام کو چھوڑا ہے بے خودوں کی طرح

پھر بھی یا رب! سدا پائمال ہوتا ہوں کیونکر

پھر بھی یارب! سدا بدحال ہوتا ہوں کیونکر

میرا گلہ بھی کٹ رہا ہے مگر کس کے لیے

میرا سب کچھ بھی بٹ رہا ہے مگر کس کے لیے

میں مر رہا ہوں سدا کیوں یہ فرعونوں کے ہاتھ

میں جل رہا ہوں سدا کیوں یہ نمرودوں کے ہاتھ

گلِ لالہ کی طرح رنگ ہے کوہساروں کا

میری گلیوں کا، میرے شہروں کا بازاروں کا

میرے گلے میں یہ زنجیرِ غلامی کیوں

میرے لیے اس زمانے میں رسوائی ہے کیوں

میں کٹ رہا ہوں استعمار کی خوشی کے لیے

اور بٹ رہا ہوں استثمار کی خوشی کے لیے

فتوے دیئے ہیں استحمار نے خودکشی کے لیے

فتوے دیئے ہیں استکبار نے بدنامی کے لیے

میری عزت، میری ناموس تڑپتی ہے کیوں

آبرو، عصمت و چادر کو ترستی ہے کیوں

میرے جواں میں بے حسی کا زہر ہے کس کا

میرے جواں میں دیوثی کا سِحر ہے کس کا

ہر ایک باغی کو کیوں ہے حبسِ دوام ملا

کیا یہ باغی کو محبت کا ہے انجام ملا

میرے ہڈیوں پہ ہو تعمیر عمارت تو کیوں

میرے لہو سے ہو سیراب حکومت تو کیوں

میرے وطن میں آتش و لہو عالِم یہ کیوں

دین کے نام پہ ظالم یہ کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

Leave a Reply