ادب,  اُردو,  شاعری

دل جسے اب بھی انتظار تیرا

دل جسے اب بھی انتظار تیرا

آنکھیں دیدار کو ترستی ہیں

کان آواز سن نہیں پائے

لمس محسوس کب ہوا ہے ابھی

تم کسی اور سیارے سے ہو

میں زمیں کا ہی اک باشندہ ہوں

تم یعنی اب بھی پیار بانٹوگی؟

نفرتوں کے سوغات بانٹوگی؟

تم میری کائنات بانٹوگی؟

یعنی دونوں جہاں تمہارے ہیں؟

یعنی میری حیات تیری ہے؟

یعنی میری ہر بات تیری ہے؟

یعنی ہر یاد دل میں تم سے ہے؟

یعنی ہر میکدہ تمہارا ہے؟

یعنی ہر جام تیرے دم سے ہے؟

یعنی سب رسم ہر قسم سے ہے؟

دل جسے اب بھی انتظار تیرا

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply