kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

دل جسے اب بھی انتظار تیرا

دل جسے اب بھی انتظار تیرا

آنکھیں دیدار کو ترستی ہیں

کان آواز سن نہیں پائے

لمس محسوس کب ہوا ہے ابھی

تم کسی اور سیارے سے ہو

میں زمیں کا ہی اک باشندہ ہوں

تم یعنی اب بھی پیار بانٹوگی؟

نفرتوں کے سوغات بانٹوگی؟

تم میری کائنات بانٹوگی؟

یعنی دونوں جہاں تمہارے ہیں؟

یعنی میری حیات تیری ہے؟

یعنی میری ہر بات تیری ہے؟

یعنی ہر یاد دل میں تم سے ہے؟

یعنی ہر میکدہ تمہارا ہے؟

یعنی ہر جام تیرے دم سے ہے؟

یعنی سب رسم ہر قسم سے ہے؟

دل جسے اب بھی انتظار تیرا

Leave a Reply