شاعری

دل جسے اب بھی انتظار تیرا

Spread the love

دل جسے اب بھی انتظار تیرا

آنکھیں دیدار کو ترستی ہیں

کان آواز سن نہیں پائے

لمس محسوس کب ہوا ہے ابھی

تم کسی اور سیارے سے ہو

میں زمیں کا ہی اک باشندہ ہوں

تم یعنی اب بھی پیار بانٹوگی؟

نفرتوں کے سوغات بانٹوگی؟

تم میری کائنات بانٹوگی؟

یعنی دونوں جہاں تمہارے ہیں؟

یعنی میری حیات تیری ہے؟

یعنی میری ہر بات تیری ہے؟

یعنی ہر یاد دل میں تم سے ہے؟

یعنی ہر میکدہ تمہارا ہے؟

یعنی ہر جام تیرے دم سے ہے؟

یعنی سب رسم ہر قسم سے ہے؟

دل جسے اب بھی انتظار تیرا

Leave a Reply