Literature,  اُردو

دل کی رانی

خیالِ یار میں کھویا ہوا تھا

میری جاں! میں بہت بھٹکا ہوا تھا

تم میری ہمسفر، جانِ تمنا

کل شب تھکا تو پھر سویا ہوا تھا

کل شب آئی تھی میرے دل کی رانی

نشے میں تھا بہت بہکا ہوا تھا

لکھا تھا دل کے کاغذ پر یہ سب کچھ

فقط ایک یاد میں اُلجھا ہوا تھا

کہاں دیکھا تھا، کیسا تھا معؔطر؟

بہت خاموش تھا ٹوٹا ہوا تھا

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply