Literature,  Urdu

دل کی رانی

خیالِ یار میں کھویا ہوا تھا

میری جاں! میں بہت بھٹکا ہوا تھا

تم میری ہمسفر، جانِ تمنا

کل شب تھکا تو پھر سویا ہوا تھا

کل شب آئی تھی میرے دل کی رانی

نشے میں تھا بہت بہکا ہوا تھا

لکھا تھا دل کے کاغذ پر یہ سب کچھ

فقط ایک یاد میں اُلجھا ہوا تھا

کہاں دیکھا تھا، کیسا تھا معؔطر؟

بہت خاموش تھا ٹوٹا ہوا تھا

Leave a Reply