Blog Literature Urdu

دلِ مضطر کے لیے

دلِ مضطر کے لیے

ذرا ٹھہر بس لمحہ بھر کے لیے

میں دھول ہوں اس رہ گزر کے لیے

شام سے بیٹھا ہوں یہ آہ و فغانی میری

تڑپ رہی ہے ابھی درد کے ساغر کے لیے

ہے یہ مقامِ محبت یہ غمگینی میری

فقط یونہی تو نہیں ہیں بس اک نظر کے لیے

میں ہوں صحرائی اور وحشی ہوں میں

میں گر آیا ہوں تو بس تیرے اس زہر کے لیے

جسکو پینے کے لیے، خون پلایا تجھ کو 

وہ ذادِ راہ ہے میری آہ اک سفر کے لیے

میرے افکار غلامی کے لیے زہرِ اجل

بس اک دو قطرے ہیں اس کے تیرے شہر کے لیے

یہ رمز ہائے جنوں، میری گفتگو سے سیکھ

میرے خلوص کے سب جام ہیں دہر کے لیے

بس اک آخری خواہش ہے معطر کی ابھی

قفس بھی ٹوٹا کرے ایک دلِ مضطر کے لیے

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started