kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

دل کے دشت میں ڈھونڈوگے اگر دل میرا

دل کے دشت میں ڈھونڈھوگے اگر دل میرا

خود ہی کھو جاؤ گے، محفل ہے مقابل میرا

روشِ سنگ سے نالاں نہیں ہونا اے دل

دور، یہ لوگ اور زندان ہے، سنگدل میرا

تمہیں سمجھاؤں تو کیسے اے میرے دل کے امیں

کھوگیا مجھ سے زمانے میں یہی دل میرا

دشت تھی راہ میں سو خوش ہوئی سنگدل فطرت

کھو گیا دشت کی وسعت میں ہی ساحل میرا

تم نے پوچھا کہ معطر کیا اُسے بھول گیا

اب بھی ہے یاد مجھے آہ! وہ سنگدل میرا

مخزنِ درد

Leave a Reply