ادب,  اُردو,  شاعری

دل کے دشت میں ڈھونڈوگے اگر دل میرا

دل کے دشت میں ڈھونڈھوگے اگر دل میرا

خود ہی کھو جاؤ گے، محفل ہے مقابل میرا

روشِ سنگ سے نالاں نہیں ہونا اے دل

دور، یہ لوگ اور زندان ہے، سنگدل میرا

تمہیں سمجھاؤں تو کیسے اے میرے دل کے امیں

کھوگیا مجھ سے زمانے میں یہی دل میرا

دشت تھی راہ میں سو خوش ہوئی سنگدل فطرت

کھو گیا دشت کی وسعت میں ہی ساحل میرا

تم نے پوچھا کہ معطر کیا اُسے بھول گیا

اب بھی ہے یاد مجھے آہ! وہ سنگدل میرا

مخزنِ درد

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply