kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

دل کی وحشت سے کبھی یوں بھی میں گھبرایا ہوں

دل کی وحشت سے کبھی یوں بھی میں گھبرایا ہوں

آنکھ بند کرکے نگاہوں کو سمجھ آیا ہوں

آتش و سوز کے ہر گنج بے مایہ سے دل

اتنا ٹکرایا ہے یہ سر تو سنور پایا ہوں

میں کہ اس دشت کا بوذر ہوں، تیرے محلوں کو

آتشِ خوں سے لمحہ بھر سہی گرمایا ہوں

اے دلِ زار! چلو قیس سے پھر مل آئیں

جامِ جم توڑ کے فرہاد سے مل آیا ہوں

یوں بھی گزری کب زندگی اپنی بہاروں میں

کیسے کہدوں کہ خزاں سے بھی میں ٹکرایا ہوں

آج پھر شبنمِ سحر کی ساحری دیکھی

یوں ہی پھر بادِ صبا سے تیرا کہہ آیا ہوں

شام پھر زُلف بکھرائے تو تیری یاد جلے

دل کو آہوں میں، محبت سے جلا آیا ہوں

پھر تو باہوں میں ہوں گلشن کے اے شیرازِ چمن

درد، خوابوں سے، پھر تقدیر سے لڑ آیا ہوں

پھر معطر سے ملوں، پھر اُسے محسوس کروں

شام ہوتے ہی اپنے گھر سے نکل آیا ہوں

مخزنِ درد

Leave a Reply