اُردو,  ذہنی صحت,  صحت کے بارے میں شعور,  مذہب

دعا الفاظ سے ماورا

دعاؤں پر یقین ہو یا نہ ہو مگر ہر عظیم انسان کو دعا کے لیے دست بستہ دیکھا۔ کبھی کبھار تو لگتا ہے کہ جیسے زندگی میں دعا کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ ہم وہ جو خُدا کے کلام و نظام سے باغی ہیں جب مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں تو اُسی سے دعا کے لیے درخواست کرتے ہیں جو خالق کے قریب ہوتا ہے یا ایسا سمجھا جاتا ہے۔ زندگی ان افسانوی مثالوں سے لبریز ہے جب دعا نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔

نجانے کتنی بار مائیں بچوں کے گھر سے نکلنے کے بعد خُدا سے اپنے بچوں کی خیر و سلامتی مانگتی نہیں تھکتیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات تو بچے تنگ آکر انہیں بتاتے بھی نہیں کہ کہیں وہ پھر کوئی ورد وظیفہ نہ شروع کر دیں۔ جن کی تعداد سینکڑوں سے شروع ہو کر لاکھوں پر بھی ختم نہیں ہوتی۔ شاید یہ ممتا ہی ہے کہ جو دعاوں کی ہمراز کرتی ہے۔ مذہبی گھرانوں میں بچے کے اُمد سے دعا کا سلسلہ شروع ہو کر آخری سانس تک ہوتا ہے۔

یونہی دو بار نوبل انعام یافتہ ماہر سرجن الکسس کارل اپنی کتاب میں دعا کو روحانی و نفسیاتی غذا نہیں کہتا۔ بلکہ اپنے تجربے اور علم و فہم کی بنیاد پر اپنی رائے کی بنیاد رکھتا ہے۔ کہ ’’ دعا روح و نفس کے لیے اُسی طرح ضروری ہے جس طرح بدن کے لیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے‘‘

دعا ناممکنات کو ممکن کیسے بناتی ہے؟ اب تک اس بارے میں سائنسی اور جدید تحقیقات نے خاموشی سادھی ہوئی ہے۔ اور اس کو فقط روحانیت اور مذہب سے جوڑنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ مگر میڈیکل سائنس کیسے اس سے جان چُھڑا سکتی ہے جبکہ دعا ہی اولین دوا رہی ہے۔ کائنات میں الفاظ جاننے، سمجھنے، اور بولنے والے اس مخلوق میں خالق کے بے شمار اوصاف یکجا ہیں۔ اگر یہ الفاظ کائنات کی تخلیق کر سکتے ہیں تو کیا کچھ ہے جو اس کے دسترس میں نہیں ہے؟

علم و حکمت، عمل و جستجو، سائنس اور ٹیکنالوجی سبھی دعا کی مرہونِ منت ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ جس دن اک بھی دعا نہ ہو تو دُنیا جہنم کدہ بن جائے۔ کیونکہ دعا ہی جنت کی کنجی اور جہنم سے بچنے کا وسیلہ و ذریعہ ہے۔ نجانے کتنے ہی لوگوں کو اس کی مدد سے موت کے منہ سے صحیح سلامت نکلتے اور کتنوں کو ہی اس کی غیر موجودگی کی وجہ سے سلامتی سے موت کے گڑھے میں کودتے دیکھا۔

دعاؤں سے اُجھڑتے گھروں کو امن کا گہوارہ بنتے دیکھا کہ دعا وہی کرتا ہے جسے دینے والے پر یقین ہوتا ہے۔ انتہا میں انسان کو فقط ایک ہی پچھتاوا ہوتا ہے کہ وہ دعاؤں کا کوٹا ختم نہ کر سکا۔ ہر صاحبِ ضمیر انسان کو دعاؤں کا دست نگر دیکھا ہے اور ہر بے ضمیر کو دعاؤں سے چھڑتے۔

پچھلے دس سالوں سے نفسیات کے پرفریب گلیوں کی سیر نے دعا کے اتنا قریب کر دیا ہے کہ اب تو سمجھتا ہوں کہ اگر انسان کے نیت میں کھوٹ نہ ہو اور دعا آنسوؤں سے خالی نہ ہو تو یہ ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔ نفسیات کا ماننا ہے کہ کسی بھی ناممکن کے ممکن بننے میں تین مراحل ہوتے ہیں۔

۱۔پُکارنا جسے چند لوگوں نے مانگنا سمجھ رکھا ہے۔

۲ـ یقین یعنی جسے پُکارا جا رہا ہے اس کے قوت و اقتدار پر یقین کہ وہ دینے پر قدرت رکھتا ہے۔

۳۔ حصول یعنی خُود کو پُکارے ہوئے کے لیے تیار کرنا کہ جو ملے اُس کا شُکر اِس کے اِستعمال میں مضمر ہے کہ جو ہے اور اس کا شکر یہ ہے کہ اُس کو استعمال کیا جائے۔

دعاؤں کے مظاہر دیکھنے اور محسوس کرنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ لوگ جو دیدہِ بینا رکھتے ہیں یہ جانتے ہیں کہ کائنات کا سارا نظام دعا کے وسیلے سے چلتا ہے۔ میں نے کبھی بھی نہیں کہا کہ کائنات میں فقط انسان ہی باشعور مخلوق ہے جسے پروردگار کے وجود کا احساس ہے۔ بلکہ لاتعداد مخلوقات کائنات کے گوش و کنار میں موجود ہیں جو اپنے رازق کے ہر شان کی حمد کرتے رہتے ہیں۔

انسان نے جتنے بھی گُر سیکھے ہیں پُکارنے کے اُن سب میں سب سے عظیم یہی الفاظ پر مبنی دعا ہے جو دل سے نکل کر عرشِ الہی سے جا ٹکراتی ہے۔ اِس کے فقہی، مذہبی اور سیاسی اثرات سے قطع نظر اس کے نفسیاتی اثرات اس قدر ہیں کہ میں نفسیات کے ایک ادنٰی طالبعلم کے حیثیت سے گُزارش کرؤنگا کہ اِس کرونا جیسی عالمی وبا میں احتیاط کے ہمراہ اس کے ذریعے سے اپنے اور اپنے عزیزوں کے نفسیاتی اُلجھنوں کا تدارک کریں۔

کہ واقعی دعا وہ واحد معجزہ ہے جو ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔ آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے باقی کسی اور دن۔ تب تک کے لیے اپنا خیال رکھئیے اللہ نگہبان۔

نوٹ:مضمون نگار نے ڈاکٹر الکسس کارل کے فرانسیسی کتابچے کا اردو ترجمہ ’’دعا الفاظ سے ماورا‘‘ کے نام سے کیا ہے جو اینیش پبلیکیشنز کے آن لائن سٹور سے پی ڈی ایف فارمیٹ میں آپ خرید سکتے ہیں۔ جس کا لنک یہاں دیا گیا ہے۔

Leave a Reply