Blog Literature Urdu

ایک بے وفا کے نام

ایک بے وفا کے نام

میں جسے اپنا ہی سمجھتا تھا

جو میری باتوں پہ سمجھتا تھا

جو تھا خیالوں پہ سوار میرے

جو پاؤں میں تھا بس اک خار میرے

آج باہوں سے میرے جا بھی چکا

کیا ہے وفا مجھے سمجھا بھی چکا

میرے نغموں کا حرف شناس تھا وہ

گل کا آتشیں لباس تھا وہ

میں اسے کھو گیا ماہی کی طرح

وہ مجھ سے بچھڑا ایک راہی کی طرح

وہ ساحلوں پہ گایا کرتا تھا

وہ تو قبروں پہ جایا کرتا تھا

میں اسے کھو کے بہت پچھتایا

پر آنا تھا اسے، نہ وہ آیا

میں منتظر ہوں اس کے آنے کا

آشک آنکھوں میں بھی چھپانے کا

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply