Literature

Gahzalyat e Mir

Spread the love

تن ہجر میں اس یار کے رنجور ہوا ہے

بے طاقتی دل کو بھی مقدور ہوا ہے

پہنچا نہیں کیا سمع مبارک میں مرا حال

یہ قصہ تو اس شہر میں مشہور ہوا ہے

بے خوابی تری آنکھوں پہ دیکھوں ہوں مگر رات

افسانہ مرے حال کا مذکور ہوا ہے

کل صبح ہی مستی میں سرراہ نہ آیا

یاں آج مرا شیشۂ دل چور ہوا ہے

کیا سوجھے اسے جس کے ہو یوسف ہی نظر میں

یعقوب بجا آنکھوں سے معذور ہوا ہے

پر شور سے ہے عشق مغنی پسراں کے

یہ کاسۂ سر کاسۂ طنبور ہوا ہے

تلوار لیے پھرنا تو اب اس کا سنا میں

نزدیک مرے کب کا یہ سر دور ہوا ہے

خورشید کی محشر میں طپش ہو گی کہاں تک

کیا ساتھ مرے داغوں کے محشور ہوا ہے

اے رشک سحر بزم میں لے منھ پہ نقاب اب

اک شمع کا چہرہ ہے سو بے نور ہوا ہے

اس شوق کو ٹک دیکھ کہ چشم نگراں ہے

جو زخم جگر کا مرے ناسور ہوا ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: