Literature

Gahzalyat e Mir

Spread the love

دل جو پر بے قرار رہتا ہے

آج کل مجھ کو مار رہتا ہے

تیرے بن دیکھے میں مکدر ہوں

آنکھوں پر اب غبار رہتا ہے

جبر یہ ہے کہ تیری خاطر دل

روز بے اختیار رہتا ہے

دل کو مت بھول جانا میرے بعد

مجھ سے یہ یادگار رہتا ہے

دور میں چشم مست کے تیری

فتنہ بھی ہوشیار رہتا ہے

بسکہ تیرا ہوا بلا گرداں

سر کو میرے دوار رہتا ہے

ہر گھڑی رنجش ایسی باتوں میں

کوئی اخلاص و پیار رہتا ہے

تجھ بن آئے ہیں تنگ جینے سے

مرنے کا انتظار رہتا ہے

دل کو گو ہاتھ میں رکھو اب تم

کوئی یہ بے قرار رہتا ہے

غیر مت کھا فریب خلق اس کا

کوئی دم میں وہ مار رہتا ہے

ق

پی نہ ہرگز شراب جیسا چاہ

اس کے نشے کا تار رہتا ہے

پر ہو پیمانہ عمر کا جب تک

تب تلک یہ خمار رہتا ہے

دلبرو دل چراتے ہو ہر دم

یوں کہیں اعتبار رہتا ہے

کیوں نہ ہووے عزیز دلہا میرؔ

کس کے کوچے میں خوار رہتا ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: