Blog

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم

سو اس عہد کو اب وفا کر چلے

شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی

کہ مقدور تک تو دوا کر چلے

وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لئے

ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے

بہت آرزو تھی گلی کی تیری

سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے

دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا

ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ

جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started