Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Gahzalyat e Mir

کرو توکل کہ عاشقی میں نہ یوں کرو گے تو کیا کرو گے

الم جو یہ ہے تو دردمندو کہاں تلک تم دوا کرو گے

جگر میں طاقت کہاں ہے اتنی کہ درد ہجراں سے مرتے رہیے

ہزاروں وعدے وصال کے تھے کوئی بھی جیتے وفا کرو گے

جہاں کی مسلخ تمام حسرت نہیں ہے تس پر نگہ کی فرصت

نظر پڑے گی بسان بسمل کبھو جو مژگاں کو وا کرو گے

اخیر الفت یہی نہیں ہے کہ جل کے آخر ہوئے پتنگے

ہوا جو یاں کی یہ ہے تو یارو غبار ہو کر اڑا کرو گے

بلا ہے ایسا طپیدن دل کہ صبر اس پر ہے سخت مشکل

دماغ اتنا کہاں رہے گا کہ دست بر دل رہا کرو گے

عدم میں ہم کو یہ غم رہے گا کہ اوروں پر اب ستم رہے گا

تمھیں تو لت ہے ستانے ہی کی کسو پر آخر جفا کرو گے

اگرچہ اب تو خفا ہو لیکن موئے گئے پر کبھو ہمارے

جو یاد ہم کو کرو گے پیارے تو ہاتھ اپنے ملا کرو گے

سحر کو محراب تیغ قاتل کبھو جو یارو ادھر ہو مائل

تو ایک سجدہ بسان بسمل مری طرف سے ادا کرو گے

غم محبت سے میرؔ صاحب بتنگ ہوں میں فقیر ہو تم

جو وقت ہو گا کبھو مساعد تو میرے حق میں دعا کرو گے

Leave a Reply