Literature

Gahzalyat e Mir

Spread the love

بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہے

باؤ سے اک دماغ نکلے ہے

ہے جو اندھیر شہر میں خورشید

دن کو لے کر چراغ نکلے ہے

چوبکاری ہی سے رہے گا شیخ

اب تو لے کر چماغ نکلے ہے

دے ہے جنبش جو واں کی خاک کو باؤ

جگر داغ داغ نکلے ہے

ہر سحر حادثہ مری خاطر

بھر کے خوں کا ایاغ نکلے ہے

اس گلی کی زمین تفتہ سے

دل جلوں کا سراغ نکلے ہے

شاید اس زلف سے لگی ہے میرؔ

باؤ میں اک دماغ نکلے ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: