north wind
Classic,  Literature

Gahzalyat e Mir

Spread the love

ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے

ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے

مصائب اور تھے پر دل کا جانا

عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

مقامر خانۂ آفاق وہ ہے

کہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے

کچھ آؤ زلف کے کوچے میں درپیش

مزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: