Blog

 ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے

ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے
ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے

مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

مقامر خانۂ آفاق وہ ہے
کہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے

کچھ آؤ زلف کے کوچے میں درپیش
مزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started