Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Gahzalyat e Mir

کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے

دن گذر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے

رہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پر

بارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے

ٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جان

عمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے

یاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چال

اور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے

روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف

عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے

شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ

یہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے

ق

خرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیں

شیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے

ہے موذن جو بڑا مرغ مصلی اس کی

مستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے

پاؤں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھی

مرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے

ہر سحر در پئے آرام مے آشاماں ہے

مکر و طامات کی اک گھات چلی جاتی ہے

ایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میرؔ

یوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے

Leave a Reply