Blog Literature Urdu

غارتگرانِ زیست

غارتگرانِ زیست

آہ! یہ روشنی

کیوں گُل ہوئی شمع ابھی

روشن جو تھی دل میں کبھی

تم زندگی کے بھیس میں

آتش سے کھیلے ہو، نہیں

تم بے سبب غمگین ہو

سمجھے تھے ہم گلچین ہو

ورنہ سقوطِ جام سے

آتش پیمائی ہو بھی تو

کیا حاصلِ فردا ہوا

امروز کا سودا ہوا

اِک بات تم سے میں کہوں؟

اے عقل کے سوداگرو

اے پیار کے غارتگرو

وہ پیار جسکو ہم اور تم

جادوگری کہتے سدا

جنون تھا، فسون تھا

غم کا چُھپا ستون تھا

کتنا گہرا سکون تھا

لمحوں میں مجھ سے کھو گیا

یہ دل تمہارا ہوگیا

وہ دل تمہارا ہوگیا

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply