Blog Poetry

ہر گماں جس پہ وار ڈالا ہے

ہر گماں جس پہ وار ڈالا ہے

اس نے ہی مجھ کو مار ڈالا ہے

نہ اتارا کسی نے جامۂ رنگ

یاں بدن تک اُتار ڈالا ہے

خود تن آساں ہے روشنی کتنی

مجھ پہ کرنوں کا بار ڈالا ہے

دید تو نے نگہ کے دامن میں

یاد رکھنا، غبار ڈالا ہے

میں نے قدموں میں تیرے دامن کش

دامنِ تار تار ڈالا ہے

بات ایسی ہی تھی کہ اب میں نے

بیچ میں خود کو یار ڈالا ہے

ہار کر اس سے اس کی گردن میں

میں نے ہی بڑھ کے ہار ڈالا ہے

اب نہ لڑنا کہ ہم نے دنیا کو

بیچ میں بار بار ڈالا ہے

اپنے آ گے مجھ آبلہ پا نے

خود ہی اک خارزار ڈالا ہے

میرے زخموں نے تیرا موسم رنگ

خود ہو کر گزار ڈالا ہے

ہوں پہنچ پار خود سے اور اسے

اور بھی دور پار ڈالا ہے

شاعر: جون ایلیا

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started