Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazalyat e Mir

شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا

القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید

خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا

لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے

جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا

دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو

یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا

ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے

پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا

ق

ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی

ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا

تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا

اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا

فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے

وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا

کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو

احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا

سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو

سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا

ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر

طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا

ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے

ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا

جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو

اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا

ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے

ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا

سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا

سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا

ق

سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے

اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا

یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری

کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا

قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی

گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا

پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے

چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا

Leave a Reply