Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu

Ghzalyat e Mir

نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو

نہ گرم ہوکے بہت آگ ہو کے آب کرو

تمھارے عکس سے بھی عکس مجھ کو رشک سے ہے

نہ دیکھو آئینہ منھ سے مرے حجاب کرو

خراب عشق تو سرگشتہ ہوں ہی میں تم بھی

پھرا پھرا کے مجھے گلیوں میں خراب کرو

کہا تھا تم نے کہ ہر حرف پر ہے بوسۂ لب

جو باتیں کی ہیں تو اب قرض کا حساب کرو

ق

ہوا ہے اہل مساجد پہ کام ازبس تنگ

نہ شب کو جاگتے رہنے کا اضطراب کرو

خدا کریم ہے اس کے کرم سے رکھ کر چشم

دراز کھینچو کسو میکدے میں خواب کرو

جہاں میں دیر نہیں لگتی آنکھیں مندتے میرؔ

تمھیں تو چاہیے ہر کام میں شتاب کرو

Leave a Reply