Literature,  اُردو

Ghazalyat E Mir

وہ نہیں اب کہ فریبوں سے لگا لیتے ہیں

ہم جو دیکھیں ہیں تو وے آنکھ چھپا لیتے ہیں

کچھ تفاوت نہیں ہستی و عدم میں ہم بھی

اٹھ کے اب قافلۂ رفتہ کو جا لیتے ہیں

نازکی ہائے رے طالع کی نکوئی سے کبھو

پھول سا ہاتھوں میں ہم اس کو اٹھا لیتے ہیں

صحبت آخر کو بگڑتی ہے سخن سازی سے

کیا درانداز بھی اک بات بنا لیتے ہیں

ہم فقیروں کو کچھ آزار تمھیں دیتے ہو

یوں تو اس فرقے سے سب لوگ دعا لیتے ہیں

چاک سینے کے ہمارے نہیں سینے اچھے

انھیں رخنوں سے دل و جان ہوا لیتے ہیں

میرؔ کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

Leave a Reply