Ghazlyat e Mir taqi mir
Literature,  Urdu

Ghazalyat e Mir

ہم کو کہنے کے تئیں بزم میں جا دیتے ہیں

بیٹھنے پاتے نہیں ہم کہ اٹھا دیتے ہیں

ان طیوروں سے ہوں میں بھی اگر آتی ہے صبا

باغ کے چار طرف آگ لگا دیتے ہیں

گرچہ ملتے ہیں خنک غیرت مہ یہ لڑکے

دل جگر دونوں کو یک لخت جلا دیتے ہیں

دیر رہتا ہے ہما لاش پہ غم کشتوں کی

استخواں ان کے جلے کچھ تو مزہ دیتے ہیں

اس شہ حسن کا اقبال کہ ظالم کے تئیں

ہر طرف سینکڑوں درویش دعا دیتے ہیں

دل جگر ہو گئے بیتاب غم عشق جہاں

جی بھی ہم شوق کے ماروں کے دغا دیتے ہیں

کیونکے اس راہ میں پا رکھیے کہ صاحب نظراں

یاں سے لے واں تئیں آنکھیں ہی بچھا دیتے ہیں

ملتے ہی آنکھ ملی اس کی تو پر ہم بے تہ

خاک میں آپ کو فی الفور ملا دیتے ہیں

طرفہ صناع ہیں اے میرؔ یہ موزوں طبعاں

بات جاتی ہے بگڑ بھی تو بنا دیتے ہیں

Leave a Reply