Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu

Ghazalyat e Mir

کیا چلے جاتے ہیں جہان سے لوگ

مگر آئے تھے میہمان سے لوگ

قہر ہے بات بات پر گالی

جاں بہ لب ہیں تری زبان سے لوگ

شہر میں گھر خراب ہے اپنا

آتے ہیں یاں اب اس نشان سے لوگ

ایک گردش میں ہیں برابر خاک

کیا جھگڑتے ہیں آسمان سے لوگ

درد دل ان نے کب سنا میرا

لگے رہتے ہیں اس کے کان سے لوگ

باؤ سے بھی لچک لہک ہے انھیں

ہیں یہی سبزے دھان پان سے لوگ

شوق میں تیر سے چلے اودھر

ہم خمیدہ قداں کمان سے لوگ

آدمی اب نہیں جہاں میں میرؔ

اٹھ گئے اس بھی کاروان سے لوگ

Leave a Reply