Ghazlyat e Mir taqi mir
Literature,  Urdu

Ghazalyat e Mir

وحشت ہے ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک

سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک

مرتے ہی سنا ان کو جنھیں دل لگی کچھ تھی

اچھا بھی ہوا کوئی اس آزار سے اب تک

جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیں

سوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک

آیا تھا کبھو یار سو مامول ہم اس کے

بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک

بد عہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچا

وعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک

ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالم

کرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک

کچھ رنج دلی میرؔ جوانی میں کھنچا تھا

زردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک

Leave a Reply